اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) پاکستان اور صومالیہ کے درمیان 24 جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری کے حوالے سے مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت صومالیہ اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر (JF-17 Thunder) طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ دفاعی پیکج کی کل مالیت تقریباً 900 ملین ڈالر (2 کھرب 51 ارب روپے) بتائی جا رہی ہے، جس میں خاص طور پر طیاروں کے جدید ترین ‘بلاک تھری’ ورژن پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں 1991 کے بعد صومالیہ کی فضائی جنگی صلاحیتوں کی بحالی کی جانب سب سے بڑی پیشرفت ثابت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جامع دفاعی معاہدے میں نہ صرف 24 طیاروں کی فراہمی شامل ہے بلکہ اس میں صومالی پائلٹس کی تربیت، جدید ہتھیاروں کی تنصیب اور طویل مدتی لاجسٹک سپورٹ بھی شامل کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے اس بڑے دفاعی سودے کے لیے مالی معاونت فراہم کیے جانے کا امکان ہے، جس سے صومالیہ کے لیے ادائیگیوں کا عمل آسان ہو جائے گا۔ پاکستان اس سے قبل میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کو بھی یہ طیارے کامیابی سے فروخت کر چکا ہے، جبکہ عراق اور بنگلادیش جیسے ممالک نے بھی اس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات کو بڑا فروغ ملے گا بلکہ افریقہ کے خطے میں سیکیورٹی کا توازن بھی بہتر ہو سکے گا۔ صومالیہ کی جانب سے پاکستان کے بنے ہوئے طیاروں کا انتخاب جے ایف 17 تھنڈر کی بین الاقوامی دفاعی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی ساکھ اور اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر بھروسے کا مظہر ہے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے