نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روسی مندوب نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا ہے اور اس کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔
روسی مندوب کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ انہوں نے عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بے بنیاد دعوے کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل میں شامل ایرانی شہریوں پر حملوں کی یورپی ممالک کی جانب سے مذمت نہ کرنا افسوسناک ہے۔
روسی نمائندے نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب سلامتی کونسل میں فرانس کے مندوب نے کہا کہ ایران اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے اور خطے کے ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ چینی مندوب نے شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی فوری ختم کر کے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے۔