ماسکو (کیو این این ورلڈ) روس نے مقامی ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے یکم اپریل 2026 سے پیٹرول (گیسولین) کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو 31 جولائی 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔
روسی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کی جانب سے توانائی کے شعبے کے ایک اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔ انہوں نے وزارت توانائی کو ہدایت دی کہ پابندی کے نفاذ کے لیے باضابطہ ڈرافٹ ریزولوشن تیار کیا جائے۔ اس پابندی کا اطلاق بنیادی طور پر مقامی پروڈیوسرز، یعنی ریفائنریوں اور پروڈکشن کمپنیوں پر ہوگا تاکہ اندرون ملک ایندھن کی فراہمی کو ترجیح دی جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فروری 2026 میں پروڈیوسرز پر عائد پابندی ہٹا لی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسے دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ایک احتیاطی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی ممکنہ قلت یا قیمتوں میں بے قابو اضافے سے بچا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی تیل کی منڈی میں اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازعات، اور عالمی فیول قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر ممکنہ ڈرون حملوں کے خدشات بھی سپلائی کے تسلسل کے لیے خطرہ سمجھے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، روس میں موسم بہار کے دوران زرعی سرگرمیوں میں اضافے اور ریفائنریوں کی معمول کی مرمت کے باعث ایندھن کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے مقامی ضروریات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں اور صنعتوں کو سستے ایندھن کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور مہنگائی پر قابو رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ روس اس سے قبل بھی 2024 اور 2025 میں اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکا ہے، جب مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ یا سپلائی کے مسائل سامنے آئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ روس سالانہ تقریباً 50 لاکھ میٹرک ٹن پیٹرول برآمد کرتا ہے، اور اس پابندی کے باعث عالمی سپلائی میں کمی آ سکتی ہے، جس سے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، خصوصاً اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب بھارت اور دیگر بڑے درآمد کنندگان پر اس کا براہ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ وہ زیادہ تر خام تیل درآمد کرتے ہیں، تاہم عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث بالواسطہ اثرات ضرور پڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق روس میں اس وقت ریفائنری پیداوار اور ذخائر مستحکم ہیں، تاہم مستقبل کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ ایک پیشگی حفاظتی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کو کسی بھی ممکنہ بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔