اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان میں سائبر حملوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے پیشِ نظر نیشنل سرٹ ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے نئی حفاظتی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق نیشنل سرٹ نے تمام سرکاری اداروں کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حکومتی، دفاعی اور مالیاتی ادارے ان ممکنہ سائبر حملوں کا بنیادی ہدف ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ دشمن عناصر کی جانب سے ڈیپ فیکس، اسپیئر فشنگ اور ڈی ڈی او ایس (DDoS) جیسے پیچیدہ حملے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ کا بھی شدید خطرہ موجود ہے۔
بینکنگ اور فنانشل سسٹمز کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی اداروں کو رینسم ویئر حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس سے سسٹم مفلوج ہونے کا اندیشہ ہے۔
ایڈوائزری میں سرکاری ملازمین اور عام عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکوک لنکس اور غیر مصدقہ ایپس سے دور رہیں، جبکہ ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور فوری سسٹم اپڈیٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سائبر سکیورٹی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں ڈیپ فیکس اور جعلی خبروں کے ذریعے نفسیاتی جنگ چھیڑے جانے کا بھی خدشہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے آئی ٹی ٹیمز کو فوری تھریٹ ہنٹنگ اور سکیورٹی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔