ادویات کی بڑھتی قیمتیں، سسکتی زندگیاں
تحریر: ڈاکٹر عبدالوحید رند

پاکستان اس وقت جن بڑے سماجی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے، ان میں سب سے حساس اور تکلیف دہ مسئلہ ادویات کی روز بروز بڑھتی قیمتیں ہیں۔ مہنگائی تو ہر شعبے میں بڑھ رہی ہے، مگر دواؤں کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ براہِ راست انسانی جانوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس لیے یہ صرف معاشی نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔ آج ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا کسی آزمائش سے کم نہیں رہا۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہے، جبکہ نجی ہسپتالوں کے اخراجات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ ایسے میں لوگ میڈیکل اسٹورز سے دوائیں خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں، مگر وہاں بھی ہر چند ماہ بعد قیمتیں اس تیزی سے بڑھتی ہیں کہ مریض حیران و پریشان رہ جاتا ہے۔

خاص طور پر وہ مریض جو شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض، گردوں کی بیماریوں یا دیگر دائمی امراض میں مبتلا ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان مریضوں کو زندگی بھر دوائیں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی ان کے ماہانہ بجٹ کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ کئی گھرانوں میں تو یہ نوبت آ چکی ہے کہ لوگ علاج اور گھر کے راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ادویات کی قیمتیں آخر کیوں مسلسل بڑھ رہی ہیں؟ فارماسیوٹیکل کمپنیاں ڈالر کی قیمت، خام مال کی مہنگائی اور درآمدی اخراجات کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیتی ہیں۔ بلاشبہ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس شعبے میں منافع خوری کا رجحان بھی بہت زیادہ ہے۔ مناسب حکومتی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیاں من مانے اضافے کرتی ہیں اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کردار اکثر مؤثر نظر نہیں آتا۔ قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان ہے، اور مریضوں کے مفاد کا تحفظ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد دواؤں کی نئی قیمتوں کی فہرست جاری ہو جاتی ہے اور عوام بے بسی سے اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دوائی کوئی عیش و عشرت کی چیز نہیں، بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ جس معاشرے میں علاج مہنگا ہو جائے وہاں غریب آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جاتی ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائے۔ مگر افسوس کہ اس اہم شعبے کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں دی گئی۔

حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ٹھوس اور دیرپا پالیسی بنائے، مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرے، غیر ضروری درآمدات پر انحصار کم کرے اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے منافع کی حد مقرر کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے تاکہ غریب مریضوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ اگر ادویات کی قیمتوں میں یہی اضافہ جاری رہا تو ایک ایسا وقت آ جائے گا جب علاج صرف امیر طبقے کی سہولت بن کر رہ جائے گا۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب اور فلاحی ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں استحکام لانا آج کے وقت کا سب سے بڑا عوامی مطالبہ اور حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے