پاکستان میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح؛ ایک سماجی المیہ
تحریر: حسنین راجہ، سیالکوٹ
پاکستان میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ایک تشویشناک سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ آئے روز ملک کے مختلف شہروں سے طلاق کے نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جو نہ صرف انفرادی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی استحکام کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں۔ یہ مسئلہ اب صرف پسند کی شادی (لو میرج) تک محدود نہیں رہا، بلکہ روایتی طور پر طے شدہ شادیوں (ارینج میرج) میں بھی اسی رفتار سے طلاق کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ گہرا اور ہمہ جہت ہے۔
ماہرینِ سماجیات کے مطابق، اس بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ میاں بیوی کی نجی زندگی میں غیر ضروری بیرونی مداخلت ہے۔ جب ازدواجی معاملات میں کسی تیسرے فرد کی شمولیت بڑھ جاتی ہے، تو آہستہ آہستہ اختلافات جنم لینے لگتے ہیں۔ رشتے داروں یا دوستوں کے غیر ضروری مشورے، دباؤ اور مسلسل مداخلت میاں بیوی کے درمیان باہمی اعتماد کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھریلو مسائل سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر متعلقہ افراد بھی ان حساس معاملات میں رائے دینے لگتے ہیں، اور یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جاتا ہے۔
ان بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کے برعکس، اسلامی تعلیمات ہمیں ازدواجی زندگی میں صبر، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے "لباس” قرار دیا گیا ہے، جس کا گہرا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت، کمزوریوں اور رازوں کی حفاظت کریں اور ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بنیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت سے پیش آنے کی بارہا تلقین فرمائی ہے، تاکہ خاندانی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار رہے۔
اگر انسانی فطرت کے تقاضوں کے تحت ازدواجی زندگی میں اختلافات پیدا ہو ہی جائیں، تو اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سب سے پہلے میاں بیوی آپس میں بات چیت اور سمجھداری سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ذاتی سطح پر مسئلہ برقرار رہے، تو اگلا قدم یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کے سمجھدار اور انصاف پسند افراد کو ثالث بنایا جائے، تاکہ وہ غیر جانبداری سے صلح صفائی کا ڈول ڈالیں اور معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔ طلاق کو آخری حربے کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ پہلے حل کے طور پر۔
بڑھتے ہوئے اس سماجی المیے کا پائیدار حل یہی ہے کہ میاں بیوی اپنی نجی زندگی کو "نجی” رکھیں، بیرونی مداخلت کو سختی سے محدود کریں اور ایک دوسرے پر اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنائیں۔ سوشل میڈیا پر گھریلو مسائل کا ڈھنڈورا پیٹنے سے مکمل گریز کیا جائے اور اس کے بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق صبر، برداشت اور باہمی احترام کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔ اگر ہمارے معاشرے میں برداشت اور سمجھداری کو عام کیا جائے، تو یقیناً بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں اور ہماری خاندانی اقدار کا تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔