گاؤں کے چھپڑ اور تالاب کی بحالی
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

ہم بحیثیت قوم ترقی پسند نہیں بلکہ انفرادی حیثیت سے ہر کام نمائشی سطح پر کرنے کو اولیت دیتے ہیں اور اپنی بربادی کا سامان خود پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے، جس کی کئی ایک مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں پڑھے لکھے لوگوں سے سیکھنے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ میرا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو پڑھے لکھے اور اپنی فیلڈ میں متحرک اور فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں موجود پرانے چھپڑوں اور تالابوں کی بحالی کا فیصلہ ایک نہایت اہم اور بروقت اقدام ہے۔ پاکستان خصوصاً پنجاب اس وقت شدید آبی بحران کے خطرے سے دوچار ہے۔ زیرِ زمین پانی کا اندھا دھند استعمال، بارشوں کے پانی کو محفوظ نہ کرنا اور قدرتی آبی ذخائر کی تباہی ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں گاؤں کے چھپڑ اور تالاب دراصل ایک قدرتی نعمت اور ماحول دوست نظام ہیں جو پانی کے ذخیرے اور زیرِ زمین آبی نظام کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق دیہی علاقوں میں موجود چھپڑ دراصل ویٹ لینڈ (Wetlands) کا درجہ رکھتے ہیں۔ ویٹ لینڈ وہ قدرتی علاقے ہوتے ہیں جہاں پانی کچھ عرصہ یا مستقل طور پر موجود رہتا ہے اور یہ زمین کے اندر موجود ایکوفیر (Aquifer) یعنی زیرِ زمین آبی تہوں کو ریچارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بارش کا پانی یا سیلابی پانی ان چھپڑوں اور تالابوں میں جمع ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتا ہے؛ اس عمل کو ریچارجنگ کہا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں دیہی علاقوں میں موجود ہزاروں چھپڑ ختم ہو گئے۔ کہیں انہیں کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا گیا، کہیں غیر قانونی تعمیرات نے ان کا وجود مٹا دیا اور کہیں انتظامی غفلت کے باعث یہ قدرتی ذخائر ختم ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بارش کا پانی ضائع ہونے لگا اور زیرِ زمین پانی کو قدرتی طور پر ریچارج ہونے کا موقع نہیں ملا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے ذریعے مسلسل پانی نکالنے سے ایکوفیر لیئر پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں زراعت، پینے کے پانی اور ماحولیاتی توازن کے لیے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں گاؤں کے چھپڑوں اور تالابوں کی بحالی نہ صرف ماحول بلکہ معیشت اور زراعت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

چھپڑ اور تالاب صرف پانی کے ذخائر نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کے اردگرد مختلف اقسام کے پودے، پرندے، مچھلیاں اور دیگر آبی حیات پروان چڑھتی ہے۔ یہ علاقے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ چھپڑ بارش کے پانی کو جمع کر کے سیلابی کیفیت کو بھی کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

دیہی معاشرت میں چھپڑوں کی سماجی اہمیت بھی کم نہیں۔ ماضی میں یہ چھپڑ نہ صرف مویشیوں کے پانی پینے کا ذریعہ تھے بلکہ گاؤں کے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتے تھے۔ اس کے علاوہ بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کے باعث یہ قحط سالی اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے تھے۔

پنجاب حکومت اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں نافذ کرتی ہے تو اس کے دور رس مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر گاؤں میں موجود پرانے چھپڑوں اور تالابوں کی نشاندہی کر کے انہیں دوبارہ بحال کیا جائے۔ ان کے گرد حفاظتی دیواریں یا باڑ لگائی جائے، نکاسی آب کا مناسب نظام بنایا جائے اور مقامی کمیونٹی کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے تاکہ یہ قدرتی ذخائر دوبارہ تباہ نہ ہوں۔

مزید یہ کہ ماہرینِ ماحولیات کی نگرانی میں ان ویٹ لینڈز کو سائنسی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ زیرِ زمین پانی کی ریچارجنگ زیادہ مؤثر ہو سکے۔ اگر بارش کے پانی کو منظم طریقے سے ان تالابوں تک پہنچایا جائے تو نہ صرف پانی ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کو سب سے بڑا چیلنج پانی کی کمی کا سامنا ہوگا۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی فی کس دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ایسے میں چھوٹے چھوٹے مقامی اقدامات جیسے چھپڑوں اور تالابوں کی بحالی دراصل ایک بڑی قومی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گاؤں کے چھپڑ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت ہیں۔ اگر ہم نے آج قدرتی آبی ذخائر کو بحال نہ کیا تو آنے والی نسلیں شدید آبی بحران اور خشک سالی کا سامنا کریں گی۔ لہٰذا پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ قابلِ تحسین ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوام، مقامی حکومتوں اور ماہرین کو بھی مل کر اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہوگا تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح محفوظ رہے، ماحول کا توازن برقرار رہے اور پاکستان کو مستقبل کی ممکنہ قحط سالی سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے