اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اور جنگ کے خاتمے کے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، اور اگر متعلقہ فریقین رضامند ہوں تو یہ پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، اور پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور جامع و بامعنی مذاکرات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور ایران آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے صدر عباس عراقچی اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کو بھی ٹیگ کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جسے سفارتی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ادھر مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ایران سے متعلق مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر تمام فریقین رضامند ہوں تو پاکستان ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جو خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔