کراچی(ویب ڈیسک) چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں اور حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ شہر قائد میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملک تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2018 میں کراچی سے ایم کیو ایم کی سیٹیں چھینی گئیں اور ملک میں سیاسی بحران جاری ہے، جبکہ شہر کی حقیقی نمائندگی ایوانوں میں موجود نہیں تھی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان کی سیاست میں غیرملکی مداخلت کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور بیرون ملک چلنے والے بیانات پر غور کرنا ضروری ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ ملک کی حریت اور بقا کے لیے کھڑی ہے اور مشکل وقت میں عوام، افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو بھی قومی سانحات میں دیگر جماعتیں سپورٹ فراہم کر چکی ہیں اور اس وقت مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فوج کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ ملک کی فوج ہے، اور حالیہ جنگ میں فوج نے 8 گنا بڑے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ فوج کے حوصلے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ بیانیہ غلط ہے اور فوج پر فخر کیا جانا چاہیے۔
فاروق ستار نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست فوج دشمنی اور ریاست مخالف بیانیے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا اور اینف از ینف قوم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔