پشاور (کیو این این ورلڈ) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ماضی میں متعدد امن معاہدوں کی ناکامی کے باوجود ایک بار پھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صوبے کی سرزمین پر کسی بھی قسم کے نئے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ عسکری کارروائیاں کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہیں ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے قائم نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے عوامی نمائندوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، جیسا کہ امن جرگہ نے بھی حالیہ آپریشن کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگرچہ صوبے میں آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، لیکن کوئی بھی ادارہ یا فرد زور زبردستی اپنا فیصلہ خیبرپختونخوا کے عوام پر مسلط نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست نے ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ ماضی میں کئی امن معاہدے کیے، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی معاہدہ پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور بالاآخر ریاست کو مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ ماضی میں پاکستانی حکام نے نیک محمد، بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، صوفی محمد، مولانا فضل اللہ، فقیر محمد اور منگل باغ جیسے عسکریت پسند رہنماؤں کے ساتھ کئی بار میزبانی اور مذاکرات کے بعد معاہدے طے کیے، مگر یہ تمام کوششیں چند ماہ سے زیادہ برقرار نہ رہ سکیں۔ ان معاہدوں کی ناکامی کے بعد عسکریت پسندوں نے اپنی طاقت کو مجتمع کیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو ضربِ عضب اور رد الفساد جیسے بڑے آپریشنز کرنے پڑے۔
تاریخی پس منظر کے مطابق، پہلا باقاعدہ امن معاہدہ اپریل 2004 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں عسکریت پسند رہنما نیک محمد وزیر کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ مارچ 2004 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد اس مقصد کے تحت طے پایا تھا کہ نیک محمد کو غیر ملکی جنگجوؤں سے تعلقات ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے قیدی رہا کیے اور جائیدادوں کے نقصان کا معاوضہ بھی ادا کیا، جبکہ دوسری جانب نیک محمد نے غیر ملکی جنگجوؤں کی رجسٹریشن کروانے اور سرحد پار حملوں کو روکنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، یہ معاہدہ بھی دیگر معاہدوں کی طرح جلد ہی ٹوٹ گیا اور خطے میں بدامنی کا ایک نیا دور شروع ہوا، جس کا خمیازہ آج بھی صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔