راولپنڈی(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی ہدایت کے مطابق توشہ خانہ 2 کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس کی طرح اس مقدمے کے ٹرائل میں بھی متعدد قانونی سقم موجود ہیں اور اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی تاکہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں سخت حالات میں رکھا گیا ہے، اور ان کی قانونی ٹیم کو کل رات 8 بجے اطلاع دی گئی کہ توشہ خانہ 2 کی سماعت صبح 9 بجے اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ موٹروے بند ہونے اور خراب موسم کے باوجود وکلاء لاہور سے پہنچ کر سماعت میں شریک ہوئے، تاہم جج نے ملزمان اور وکلا کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنا دیا۔ وکیل کے مطابق جج نے آج دلائل مکمل کرنے کے بجائے پہلے سے لکھا ہوا 59 صفحات پر مشتمل فیصلہ ساتھ لایا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ توشہ خانہ 2 کے نام نہاد کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دی گئی 17، 17 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ "اوپر” سے لکھوا کر لایا گیا ایک تیار شدہ فیصلہ ہے، جو ایک نام نہاد عدالت نے اڈیالہ جیل میں پڑھ کر سنا دیا۔ فیصلہ سناتے وقت نہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا موجود تھے، نہ اہلِ خانہ کو عدالت آنے کی اجازت دی گئی، اور نہ ہی بنیادی عدالتی تقاضے پورے کیے گئے۔ یہ کھلی توہینِ عدالت، توہینِ قانون اور توہینِ انصاف کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے