تہران(کیو این این ورلڈ) ایران میں ہفتے کے روز ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اتوار کو ملک بھر میں حکومت کے حق میں اور امریکا کے خلاف بڑی ریلیاں نکالی گئی ہیں، جس میں شرکاء نے حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں حکومت کے حامی اور مخالف طلبہ کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھی گئیں جہاں بعض طلبہ نے بادشاہت کی بحالی کے نعرے لگائے۔ سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امیر کبیر یونیورسٹی، شریف یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایران میں کچھ طلبہ کی جانب سے انقلاب مخالف نعرے بازی کی گئی، جبکہ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر حسین گلدانساز کا کہنا ہے کہ جنوری کے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کے سوگ کے باعث جامعات میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں حالیہ مذاکرات کے دوران مختلف عملی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کچھ حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، تاہم ایران امریکی کارروائیوں اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی مہم جوئی کا بروقت جواب دیا جا سکے۔
یاد رہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جہاں ایک طرف معاشی مسائل اور سیاسی احتجاج کی لہر ہے تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ عسکری و سفارتی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی صدر کے حالیہ بیان کو عالمی سطح پر انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ تہران کی سڑکوں پر نکالی جانے والی حکومت نواز ریلیاں اسی عزم کا حصہ ہیں جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ دکھانا ہے کہ ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔