اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر ایک اہم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد سعودی قیادت سے ملاقات کر کے خطے میں جاری حالیہ کشیدگی، علاقائی سکیورٹی اور دوطرفہ برادرانہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی مشاورت اور امن و سلامتی کے حوالے سے جاری رابطوں کا تسلسل ہے۔ پاکستان خطے میں تناؤ کے خاتمے، فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، جس میں ایران پر حملے کی مذمت کی گئی کیونکہ یہ واقعہ مذاکراتی عمل کے دوران پیش آیا۔

پاکستان نے خلیجی ممالک پر حملوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تین نکاتی موقف پیش کیا ہے، جس میں تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام، عالمی قوانین کی پاسداری اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو کابل کی جانب سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے اور پاکستان نے ضمانت مانگی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ایران اور دیگر ممالک سے اب تک ہزاروں پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لایا جا چکا ہے۔ ایران، بھارت اور تیل بردار جہازوں کے معاملات پر پاکستان نے محتاط رہتے ہوئے اسے متعلقہ ممالک کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے بھی رابطے میں رہیں گے تاکہ پاکستان خطے میں ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مکمل کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے