واشنگٹن(کیو این این ورلڈ)واشنگٹن میں اعلیٰ حکام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران کے گرد وسیع پیمانے پر فوجی اور بحری طاقت جمع کرنے کے باوجود تہران کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کیا تھا تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال کسی قسم کے نرم رویے یا ہتھیار ڈالنے کا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا ہے۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان سے باقاعدہ سوال کیا کہ اتنے زیادہ دباؤ اور خطے میں امریکی بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران اب تک ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔ اسٹیو وٹکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایران یہ کیوں نہیں کہتا کہ اسے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ امریکا خطے میں اپنی عسکری پوزیشن کو مسلسل مستحکم کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں لیکن سفارتی کوششوں کے باوجود اب تک کوئی مثبت پیشرفت یا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پایا جانے والا تناؤ بدستور برقرار ہے اور مذاکرات کی میز پر کسی قسم کا بریک تھرو نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی قوت میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک اور امریکی طیارہ بردار جہاز (ایئر کرافٹ کیریئر) بھی ایران کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جس کا مقصد ایران کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے