حبیب جالب: ظلم کے خلاف اٹھنے والی لازوال آواز

24 مارچ کو برصغیر کے نامور انقلابی شاعر حبیب جالب کا 98واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک مزاحمت اور ایک زندہ ضمیر کا نام تھے—ایسی آواز جو اقتدار کے ایوانوں سے ٹکرا کر بھی دب نہ سکی۔ ان کی شاعری میں سچائی، جرات اور عوامی جذبات کی ترجمانی اس انداز میں ملتی ہے کہ وہ آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔

حبیب جالب 24 مارچ 1928ء کو برطانوی ہند کے شہر ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آئے، پہلے کراچی میں قیام کیا اور بعدازاں لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ابتدائی دور میں وہ روایتی غزل گوئی کی طرف مائل تھے اور جگر مرادآبادی کے رنگ میں رومانوی شاعری کرتے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جبر، آمریت اور ناانصافی نے ان کے قلم کو ایک نیا رخ دیا اور وہ عوامی شاعر بن کر ابھرے۔

ان کی شاعری محض ادب تک محدود نہیں رہی بلکہ مزاحمت کی علامت بن گئی۔ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے آمریت، استحصال اور سماجی ناانصافی کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ ان کی مشہور نظم "دستور” آج بھی جبر کے خلاف جدوجہد کی ایک توانا علامت سمجھی جاتی ہے، جس کے اشعار عوام کے دلوں کی آواز بن کر گونجتے ہیں۔ حبیب جالب کا کلام نہ صرف ادبی حلقوں میں بلکہ عوامی اجتماعات اور تحریکوں میں بھی نمایاں رہا۔

"ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا”

وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر سیاسی جدوجہد کا حصہ بھی رہے۔ انہوں نے فوجی آمریت کے خلاف ڈٹ کر آواز اٹھائی اور کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ خصوصاً فاطمہ جناح کی صدارتی مہم کے دوران انہوں نے ایوب خان کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری جلسوں، جلوسوں اور عوامی تحریکوں کی زبان بن گئی، جبکہ نامور شاعر فیض احمد فیض نے بھی انہیں عوام کا شاعر قرار دیا، جو ان کے مقام کا ایک بڑا اعتراف تھا۔

حبیب جالب کے شعری مجموعے دراصل ایک عہد کی تاریخ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان کی تصانیف میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سردار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں، جن میں معاشرتی ناانصافی، سیاسی جبر اور عوامی دکھوں کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔

انہوں نے فلمی دنیا کے لیے بھی گیت لکھے اور کئی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، تاہم فلم "زرقا” کے لیے لکھے گئے گیت کو خاص طور پر بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا۔

آج جب حبیب جالب کو یاد کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ اس فکر کو زندہ رکھنا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی شاعری آج بھی عوامی شعور کو بیدار کرتی ہے اور ہر اس شخص کے دل میں جگہ رکھتی ہے جو سچ، انصاف اور آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا پیغام، ان کی آواز اور ان کا نظریہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے