ڈیرہ غازی خان (رپورٹ: ریاض جاذب) قومی شاہراہ N-55 (انڈس ہائی وے) کا راجن پور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک 330 کلومیٹر طویل ڈوئلائزیشن منصوبہ، جو جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لاکھوں شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جاتا ہے، تاحال عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکا۔ نیا سال 2026 شروع ہو چکا ہے، مگر یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ بدستور کاغذی کارروائیوں، سیاسی تنازعات اور انتظامی رکاوٹوں کی زد میں ہے۔
یہ قومی شاہراہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع سے گزرتی ہے، جہاں مقامی آبادی اسے ’’قاتل روڈ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ ہر سال اس سڑک پر درجنوں ہولناک ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، جبکہ زخمیوں اور بھاری مالی نقصانات کا سلسلہ الگ ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے شہری خوف کے عالم میں اس شاہراہ کو عبور کرنے پر مجبور ہیں۔
منصوبے کا بنیادی مقصد موجودہ دو لین سڑک کو چار لین میں تبدیل کرنا، سفر کو محفوظ بنانا، ٹریفک دباؤ میں کمی، وقت اور ایندھن کی بچت اور بین الصوبائی تجارت کو فروغ دینا تھا، تاہم سیاسی دباؤ، قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی سست روی نے اس اہم منصوبے کو التوا کا شکار بنا رکھا ہے۔
چینی پاکستانی کنسورشیم نے بولی اور ٹھیکیداری کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل کر لیا ہے اور کام شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اس کے باوجود بعض سینیٹرز اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ٹھیکیداری پر اعتراضات اور دوبارہ جائزے کے مطالبات نے منصوبے کو عملی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ کنسورشیم کی جانب سے حکومت پاکستان اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کو ارسال کیے گئے خطوط میں خبردار کیا گیا ہے کہ مزید تاخیر کی صورت میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی مالی معاونت خطرے میں پڑ سکتی ہے، جبکہ منصوبے کی لاگت میں بھی غیر ضروری اضافہ ہو گا۔
ماہرین اور مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ N-55 آج بھی عوام کی روزمرہ نقل و حمل اور تجارت کے لیے ایک خطرناک راستہ بنی ہوئی ہے۔ ایک مقامی شہری کے مطابق، ’’یہ سڑک روزانہ جانیں لے رہی ہے، مگر حکومتی عدم توجہی کے باعث ڈوئلائزیشن کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔‘‘
عوامی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آخر کب تک یہ ’’قاتل روڈ‘‘ قاتل بنی رہے گی؟ کیا سیاسی مفادات انسانی جانوں سے زیادہ اہم ہیں؟ اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو جائے تو نہ صرف ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پورے خطے کی معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ بصورت دیگر تاخیر کا یہ سلسلہ لاکھوں افراد کی امیدوں کو ایک بار پھر خاک میں ملا دے گا۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور علاقائی ترقی کا خواب حقیقت بن سکے۔