اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کردہ عالمی ادارے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کر لی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو اس اہم بورڈ کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی تھی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس بورڈ کا بنیادی مقصد خطے میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی میں اضافے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور اسے امید ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پلیٹ فارم سے امن کی جانب عملی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے اور امریکا مختلف عالمی رہنماؤں کو اس کا حصہ بننے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اگرچہ اس ادارے کا ظاہری مقصد غزہ کی بحالی ہے، تاہم اس کے چارٹر کے مطابق اس کا دائرہ کار وسیع ہے اور ماہرین اسے مستقبل میں اقوام متحدہ کے ایک طاقتور متبادل یا حریف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔