کراچی (کیو این این ورلڈ) پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بھارت کے خلاف وائٹ بال فارمیٹ میں ایک بار پھر بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں گزشتہ چار ماہ کے دوران قومی ٹیم روایتی حریف سے مسلسل چوتھا میچ ہار گئی ہے۔ اتوار کو کولمبو میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں شکست کے بعد شائقینِ کرکٹ میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے اور پاکستان کے کرکٹ سسٹم کی بہتری کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت کی پاکستان کے خلاف یہ مسلسل آٹھویں فتح ہے، جبکہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 16 وائٹ بال میچوں میں سے 13 میں بھارت فاتح رہا، محض دو میں پاکستان کو کامیابی ملی اور ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے درمیان ایک بار پھر مصافحہ نہ ہونا بھی میدان میں موجود کشیدگی کو ظاہر کرتا رہا۔

کولمبو میں ہونے والے اس میچ کا ایک دلچسپ مگر تشویشناک پہلو یہ تھا کہ پاکستان کے چار بولرز سلمان آغا، عثمان طارق، محمد نواز اور صائم ایوب نے مجموعی طور پر 14 اوورز میں صرف 87 رنز دیے، لیکن دوسری جانب تین اہم بولرز شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نے صرف 6 اوورز میں 86 رنز لٹائے جو بالآخر پاکستان کی ہار کا بنیادی سبب بنے۔ کپتان سلمان علی آغا نے آل راؤنڈر فہیم اشرف کو مسلسل تیسرے میچ میں بھی بولنگ کے لیے استعمال نہیں کیا، جس پر ماہرینِ کرکٹ حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے آخری بار ستمبر 2022 میں دبئی میں بھارت کو شکست دی تھی، لیکن اس کے بعد سے اب تک ہونے والے تمام چھ مقابلوں میں بھارت نے اپنی برتری برقرار رکھی ہے، جس میں جون 2024 کا وہ میچ بھی شامل ہے جہاں پاکستان نیویارک میں محض 120 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک 9 میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں سے بھارت نے 8 میں کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان کو واحد فتح 2021 میں دبئی کے مقام پر ملی تھی۔ حالیہ برسوں میں بھارت کے خلاف مسلسل ناکامیوں نے پاکستانی ٹیم کی صلاحیتوں اور انتظامیہ کی حکمتِ عملی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف اہم میچوں میں قومی ٹیم دباؤ برداشت کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، جبکہ بولنگ اور بیٹنگ کے شعبوں میں عدم توازن واضح ہے۔ عوامی حلقوں نے پی سی بی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیم کی کارکردگی کا ازسرِ نو جائزہ لے اور کرکٹ سسٹم میں ایسی بنیادی تبدیلیاں لائے جن سے قومی ٹیم دوبارہ عالمی سطح پر، خاص طور پر روایتی حریف کے خلاف، اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے