نیویارک (کیو این این ورلڈ) پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی پابندیوں کی فہرست میں فوری طور پر شامل کیا جائے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی سے عالمی امن کو لاحق خطرات پر خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس حوالے سے زیرِ غور درخواست کو جلد منظور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان گروہوں کی سرکوبی ناگزیر ہو چکی ہے جو بیرونی ایما پر پاکستان کے امن کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ‘فتنۃ الخوارج’ (ٹی ٹی پی) اور ‘فتنۃ الہندوستان’ (بی ایل اے) سمیت اس کی مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروہوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کو غیر ملکی مالی معاونت اور بیرونی سرپرستی حاصل ہے، جس کے ذریعے یہ پراکسی تنظیمیں پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہیں۔ مستقل مندوب نے تشویش کا اظہار کیا کہ یہ گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جہاں انہیں تقریباً مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ ہمارے مشرقی ہمسائے کی فعال حمایت ان کی بزدلانہ کارروائیوں کو مہمیز دے رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری کو بلوچستان کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محض گزشتہ ہفتے بی ایل اے نے صوبے کے مختلف مقامات پر سفاکانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جس کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کر رہا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر ان تنظیموں کی مالی و لاجسٹک سپلائی لائن کاٹنا ضروری ہے۔ عاصم افتخار احمد نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار ختم ہونے چاہئیں اور پاکستان میں خون بہانے والے گروہوں کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دے کر ان کے سہولت کاروں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے