پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں روایتی حریف بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ کھیلنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد کرکٹ کی دنیا کے اس سب سے بڑے ٹاکرے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ (کیو این این ورلڈ) ذرائع کے مطابق یہ اہم ترین فیصلہ سری لنکن صدر کی خصوصی درخواست پر وزیراعظم شہباز شریف نے کیا ہے، جس سے ایونٹ پر چھائے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور سری لنکا کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں سری لنکن صدر نے درخواست کی کہ پاکستان کی ٹیم کو سری لنکا میں شیڈول پاک بھارت میچ ضرور کھیلنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر یاد دلایا کہ سری لنکا میں دہشت گردی کے بدترین دور میں بھی پاکستان نے سری لنکن کرکٹ کو تنہا نہیں چھوڑا اور اپنے دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہوئے وہاں کرکٹ کھیلنے کے لیے ٹیمیں بھیجیں، لہٰذا اس تاریخی پس منظر میں پاکستان کو اس اہم میچ کا حصہ بننا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کے ان جذبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مشکل حالات کے دوران سری لنکا نے بھی ہمیشہ بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے حال ہی میں سری لنکا کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ نہ کرنے کے اقدام کو ناقابل فراموش قرار دیا اور مشاورت کے بعد میچ کھیلنے کی یقین دہانی کرائی۔ دوسری جانب بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھی پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میدان میں اترے۔ بی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں چیئرمین پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف میچ کھیلے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلادیش نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے آئی سی سی نے مسترد کرتے ہوئے بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا تھا، جس پر پاکستان نے بنگلادیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر بھارت سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
لاہور میں پاکستان سپر لیگ کی ٹیم ملتان کی نیلامی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھی لچک دکھانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مہمان گھر آ جائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں اور اسے عزت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے ساتھ معاملات چل رہے ہیں اور وہ خود بھی حتمی اطلاع کے منتظر ہیں، تاہم ان کا موقف تھا کہ جب کوئی خود چل کر آ جائے تو پرانی باتیں بھول جانی چاہئیں۔ دفاعی اور کھیلوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے سے نہ صرف خطے میں کھیلوں کے سفارتی تعلقات کو فروغ ملے گا بلکہ آئی سی سی کو ممکنہ طور پر ہونے والے کروڑوں ڈالرز کے مالی نقصان سے بھی بچایا جا سکے گا۔ اب کرکٹ شائقین کی نظریں 15 فروری پر جمی ہیں جب کولمبو کے میدان میں دونوں روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے۔