ہماری ترجیحات: پروٹوکول یا معیشت؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

وقت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ہماری قومی ترجیحات حقیقی معنوں میں عوامی نہیں رہیں۔ قیامِ پاکستان کو 78 سال گزر چکے ہیں، مگر ہم بطور ریاست آج بھی تجربات کی ایک لیبارٹری دکھائی دیتے ہیں۔ ہم "الف انار” سے آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر قوم سوچنے، سمجھنے اور شعور کی منازل طے کرنے لگے تو سوال اٹھائے گی—اور سوال طاقت کے ایوانوں کے لیے ہمیشہ غیر آرام دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے بسا اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شعور کی بجائے نمائشی ترجیحات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور پرائس کنٹرول کے ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف پکڑ دھکڑ، ایف آئی آر یا حوالات نہیں؛ اصل مسئلہ نظام کی خرابی ہے، جس کی جڑ تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان—ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر پروفیشنلز—بیرونِ ملک جا چکے ہیں، جبکہ باقی مواقع کے انتظار میں ہیں۔ چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری غیر یقینی کا شکار ہے۔

ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معیشت، روزگار اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے۔ لیکن اگر انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل توجہ پروٹوکول، نمائشی دوروں اور عہدوں کی شان و شوکت پر مرکوز ہے۔

آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملتے ہی سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، ٹریفک معطل ہو جاتی ہے اور شہری اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایمبولینس میں مریض انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان میں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا مطلب عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی خدمت اور سہولت میں پوشیدہ ہے؟

بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال حکمران اور عوام کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے۔

یہ کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا ہے۔ جب عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں، تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں اور ریاستی وسائل کے استعمال میں احتیاط برتتے ہیں۔ ان ممالک کی ترقی کا راز کارکردگی ہے، نمود و نمائش نہیں۔ اسلامی تعلیمات بھی سادگی، عدل اور خدمتِ خلق پر زور دیتی ہیں۔

پاکستان، جو خود کو اسلامی جمہوریہ کہتا ہے، اگر واقعی ترقی چاہتا ہے تو اسے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر صرف کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عہدہ اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔

خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر سوچ میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے صاف پانی کی کمی اور سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی جیسے مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں۔ اگر ساری توانائی استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر خرچ ہوتی رہی تو عوامی مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ مل کر سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دیں اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کریں۔ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور منصفانہ نظام میں ہوتی ہے۔

جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ مگر اس کے لیے پہلے قوم بننا ضروری ہے۔

آخر کب تک ہم امید کا دامن تھامے بیٹھے رہیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے