واشنگٹن ( کیو این این ورلڈ) وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی آپریشن اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طے شدہ تمام اسٹریٹجک مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کی مدت کا انحصار اہداف کی تکمیل پر ہے اور امریکی افواج ان مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔

ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ نے فی الحال آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز کو براہ راست فوجی تحفظ یا اسکارٹ فراہم نہیں کیا، تاہم یہ آپشن بدستور زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی توانائی کی ٹیم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم توانائی کے شعبے میں مزید آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کو مستحکم رکھا جا سکے۔ ترجمان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکی افواج انتہائی تیزی سے اپنے اہداف حاصل کر رہی ہیں اور آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے صدر مکمل طور پر پراعتماد ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری 10 روزہ جنگ میں اب تک 140 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے 8 اہلکار شدید زخمی ہیں جبکہ 108 معمولی زخمی ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ ادھر غیر ملکی خبر ایجنسیوں نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 150 تک پہنچ چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے