آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 30 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے استعمال کے اشاروں کے بعد قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔
پیر کے روز دورانِ کاروبار برطانوی خام تیل برینٹ کی فی بیرل قیمت 21.25 ڈالر اضافے کے ساتھ 119.50 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 119.48 ڈالر کی سطح کو چھو گئی تھی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وبا کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے جی 7 ممالک متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے خام تیل کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں فرانس کی زیرِ صدارت جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزیر خزانہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر ذخائر جاری کیے جا سکتے ہیں اور فی الحال یورپ و امریکہ میں ایندھن کی فراہمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے اجلاس کو بتایا کہ رکن ممالک کے پاس 1.2 ارب بیرل سے زائد کے سرکاری ذخائر اور 600 ملین بیرل کے صنعتی ذخائر موجود ہیں، جنہیں 2022 میں بھی روس یوکرین جنگ کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔
جی 7 ممالک کے اس اعلان کے بعد قیمتوں میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے اور برطانوی خام تیل 119.50 ڈالر سے کم ہو کر 98.69 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے، جبکہ امریکی خام تیل 95.65 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ تاجروں کو خلیج فارس سے تیل کی رسائی کے حوالے سے شدید تشویش ہے کیونکہ آبنائے ہرمز گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔