اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں حالیہ کارروائی سے متعلق حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب محض جنازے اٹھانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایک ایک شہید کے خون کا حساب لیا جائے گا۔
سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جس کا واضح پس منظر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے بارہا افغان حکام کو سرحد پار سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات سے آگاہ کیا لیکن مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں موجود ہیں جہاں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ سمیت مختلف حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور دہشت گردی کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیل چکا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں — ننگرہار، پکتیکا اور خوست — میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ “فتنہ الخوارج” اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں موجود شدت پسند عناصر کو ہٹانے کے لیے پاکستان سے دس ارب روپے کی مالی معاونت مانگی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ رقم دینے کو تیار ہے، تاہم اس بات کی ضمانت دی جائے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی اور سرحد پار دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے کی گئی اسٹرائیکس انٹیلی جنس بیسڈ اور مکمل طور پر ہدف پر تھیں، جن میں مبینہ طور پر 100 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن ملکی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن ردعمل دیا جائے، پاکستان کو کمزور سمجھنے والوں کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کی مصلحت نہیں برتی جائے گی۔