کراچی (کیو این این ورلڈ) جاوید عالم اوڈھو، انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے اعلان کیا ہے کہ سندھ کا بدنام زمانہ ڈاکو ثنااللہ عرف ثنو شر ہتھیار ڈال کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے سرنڈر کر گیا ہے۔ سندھ حکومت نے ثنااللہ شر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
آئی جی سندھ کے مطابق ملزم سندھ اور پنجاب پولیس کو 100 سے زائد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی اور پولیس اہلکاروں کی شہادت جیسے جرائم شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ثنااللہ شر کی گرفتاری کے بعد اغوا برائے تاوان کے ایک بڑے باب کا خاتمہ ہوگا، جبکہ اس کے ساتھیوں نے بھی ہتھیار پھینکنا شروع کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق ثنو شر سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں متحرک تھا اور 17 پولیس افسران و اہلکاروں کے قتل کے مقدمات میں بھی ملوث رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی ہے اور کچے کے پورے علاقے کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کیا جائے گا۔
آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ جو بھی ڈاکو ہتھیار ڈالے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اور سرنڈر کرنے والوں کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب رونتی اور صادق آباد کے کچے کے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران ایک اور مغوی صداقت علی شاہ، جو ننکانہ صاحب کے رہائشی ہیں، کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق مغوی کی رہائی کے لیے ورثا سے کروڑوں روپے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔
ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سمو کے مطابق صادق آباد کے کچے کے علاقے میں کوش گینگ کے مزید پانچ ڈاکوؤں—منور کوش، صوبیدار کوش، شملو کوش، محب کوش اور علی نواز کوش نے بھی سرنڈر کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرنڈر کرنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔
روجھان کے کچے کے علاقے میں پنجاب پولیس کا دو ماہ سے جاری گرینڈ آپریشن بھی جاری ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس حکمت عملی کے تحت تنویر اندھڑ گینگ، بیکھرانی گینگ اور بنوں گینگ سے وابستہ مزید 12 اشتہاری ڈاکو بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان، قتل اور دیگر سنگین وارداتوں میں مطلوب تمام جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے اور مغویوں کی مکمل بازیابی تک آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔