اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت جاری اصلاحاتی اقدامات کوئی نئی یا اچانک عائد کی گئی شرائط نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق ای ایف ایف پروگرام کے تحت اقدامات مرحلہ وار نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ طے شدہ پالیسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ ہر جائزے کے بعد شامل کیے جانے والے اقدامات دراصل پروگرام کے ابتدائی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کا تسلسل ہیں اور حکومتِ پاکستان کی پہلے سے شروع کردہ اصلاحات پر مبنی ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے، نیب اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کے ساتھ تعاون، مالیاتی معلومات کی فراہمی، ترسیلات زر میں بہتری، شوگر سیکٹر کی اصلاحات، ایف بی آر کے اصلاحاتی اقدامات، بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری اور کمپنیز ایکٹ میں ترامیم سمیت دیگر اقدامات ای ایف ایف پروگرام کے آغاز سے ہی شامل ہیں اور موجودہ ایم ای ایف پی میں انہی اقدامات کو منطقی مراحل میں آگے بڑھایا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ تازہ ایم ای ایف پی میں شامل تمام اقدامات حکومت اور آئی ایم ایف کے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کے فطری تسلسل ہیں اور انہیں نئی یا غیر متوقع شرائط قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔