لاہور: پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی نے پنجاب میں ٹریفک آرڈیننس 2025 پر عمل درآمد معطل کرنے کے اعلان کے بعد کی جانے والی پہیہ جام ہڑتال ختم کر دی ہے۔
پنجاب بھر میں رات گئے سے دوپہر تک جاری ہڑتال کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بسیں اور دیگر کمرشل گاڑیاں بند رہیں جبکہ ریلوے اسٹیشنوں پر رش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوپہر کو صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی، اراکین تنویر خان، نبیل محمود، ملک ندیم حسین اور دیگر نمائندوں سے مذاکرات کیے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے یقین دہانی کرائی کہ فی الحال ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد کو معطل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی گاڑی پر جرمانہ نہیں لگایا جائے گا۔ مزید برآں، مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو آئندہ اقدامات کی نگرانی کرے گی۔
پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ وزیر ٹرانسپورٹ کی یقین دہانی پر ہڑتال معطل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل گاڑیوں کے چالان نہیں ہوں گے اور تھانوں میں گاڑیاں ضبط نہیں کی جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے صدر شیر علی چوہدری نے کہا کہ ٹریفک آرڈیننس منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے، بصورت دیگر ہڑتال دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
اس کامیاب مذاکرات کے بعد پنجاب میں شہریوں کو معمول کے مطابق ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آ گئی ہے اور بس اڈے و ریلوے اسٹیشنوں پر رش بھی معمول پر آگیا ہے۔