لاہور (کیو این این ورلڈ) سانحہ بھائی گیٹ پر آئی جی پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی ہائی پاور انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے آئی جی پنجاب کو ارسال کر دی ہے، جس میں ایس پی سٹی، متعلقہ ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او کو سنگین غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب نے خاتون اور کمسن بچی کے مین ہول میں گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد متوفی خاتون کے شوہر کو حراست میں لے کر مبینہ تشدد کرنے اور پولیس کے مجموعی کردار و غفلت کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی عمران محمود کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی احمد ناصر، ڈی آئی جی عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور شامل تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے جائے وقوعہ کا تفصیلی دورہ کیا، دستیاب شواہد کا جائزہ لیا اور عینی شاہدین سمیت متاثرہ خاندان کے بیانات قلمبند کیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی سعدیہ اور اس کی بیٹی ردا کے اہل خانہ نے اپنے بیانات میں پولیس کے رویے اور واقعے کے بعد ہونے والی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انکوائری رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایس پی سٹی کی موجودگی میں متوفی خاتون کے شوہر کو ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور پولیس قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر قرار دیا کہ ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ او نے فرائض میں غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق کمیٹی نے تینوں افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارشات آئی جی پنجاب کو بھجوا دی ہیں، تاہم ان افسران کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ آئی جی پنجاب کی جانب سے کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے