نوشہروفیروز (کیو این این ورلڈ/ محمد ساجد مغل) ریلوے انتظامیہ نے بھریاروڈ میں سرکاری زمین پر قائم غیر قانونی قبضے واگزار کروانے کے لیے بڑا آپریشن کیا ہے، جس کے دوران ریلوے اراضی پر تعمیر شدہ متعدد دکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔
ریلوے پولیس کے مطابق یہ دکانیں ریلوے کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ آپریشن کے دوران مزاحمت کرنے پر ایک دکاندار مرتضیٰ راجپر کو ریلوے پولیس نے حراست میں لے کر کارروائی شروع کر دی ہے۔
ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ریلوے کی زمینوں سے ناجائز قبضے ختم کروائے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی کی واگزاری تک یہ مہم جاری رہے گی۔
دوسری جانب آپریشن سے متاثرہ دکانداروں نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی سالوں سے یہاں اپنا روزگار کما رہے تھے، مگر ریلوے نے انہیں بغیر کسی پیشگی نوٹس یا لیز کا موقع دیے بے روزگار کر دیا ہے۔
متاثرین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے یا ان کی دکانوں کو قانونی شکل دے کر ان کا روزگار بچایا جائے، کیونکہ اچانک اس کارروائی سے درجنوں خاندانوں کے لیے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
