ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈی پی او ارسلان زاہد کی زیرِ صدارت ضلعی امن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام، ممبران امن کمیٹی اور ضلعی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پاک افغان بارڈر پر جاری کشیدگی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے ایران میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت دیگر رفقاء کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس مشکل گھڑی میں ایرانی بھائیوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

ڈی پی او ارسلان زاہد نے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امن دشمن عناصر پاکستان کے استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم پولیس فورس اور دیگر تمام ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن قانون کو ہاتھ میں لینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ منبر و محراب سے امن، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام عام کریں کیونکہ ریاستی اداروں اور قومی املاک کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

امن کمیٹی کے ممبران نے افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی بھرپور مذمت کی اور پاک فوج کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں اتحاد، صبر اور دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ایران کے شہداء اور ملکِ پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے