ننکانہ صاحب: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے پرائیویٹ اسکولوں کی من مانیوں اور والدین سے بھاری رقوم بٹورنے کے خلاف ایک بار پھر سخت ایکشن کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا یہ حکم بھی ماضی کی طرح محض کاغذی کارروائی ثابت ہوگا یا اس بار واقعی کوئی عملی تبدیلی آئے گی؟
ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کی زیرِ صدارت پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈی سی نے واضح کیا کہ کوئی بھی سکول والدین کو مخصوص دکانوں سے کتابیں، اسٹیشنری یا یونیفارم خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
اجلاس کے دوران ڈی سی نے 15 فروری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخ کے بعد تمام سکولوں کی سخت چیکنگ ہوگی۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کو فوری سیل کر دیا جائے گا اور ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی انتظامیہ کی جانب سے بھاری فیسوں کے بارے ایسے کئی نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، لیکن سکول مافیا کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ والدین اب بھی مہنگی کتابوں اور یونیفارم کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اس بار بھی انہیں شک ہے کہ کیا انتظامیہ واقعی سکولوں پر لگام ڈال سکے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکایات براہِ راست ان کے دفتر میں جمع کروائیں اور تمام سکولوں کو پابند کیا کہ وہ اس حکمنامے کو نوٹس بورڈ پر نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 فروری کے بعد سکولوں کو سیل کیا جاتا ہے یا یہ معاملہ ایک بار پھر سرد خانے کی نذر ہو جائے گا۔
