ڈھاکا (کیو این این ورلڈ) بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے عام انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنی الوداعی تقریر میں انہوں نے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ‘سیون سسٹرز’ کا حوالہ دیا، جس نے مودی سرکار میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انتخابات کے بعد خالدہ ضیا کے صاحبزادے نے نئے وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

محمد یونس نے اپنے خطاب میں کہا کہ بنگلادیش کا سمندر صرف ایک سرحد نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑنے کا دروازہ ہے۔ انہوں نے نیپال، بھوٹان اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ‘سیون سسٹرز’ کو خطے کی بڑی معاشی صلاحیت قرار دیا۔ بھارتی مبصرین اس بیان کو نئی دہلی کے لیے ایک واضح پیغام سمجھ رہے ہیں کیونکہ ان ریاستوں کا جغرافیہ بھارت کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی حساس ہے۔

واضح رہے کہ ‘سیون سسٹرز’ بھارت کے شمال مشرق میں واقع وہ سات ریاستیں ہیں جو باقی ملک سے صرف 22 کلومیٹر چوڑی زمینی پٹی ‘سلگڑی راہداری’ کے ذریعے جڑی ہیں، جسے ‘چکن نیک’ بھی کہا جاتا ہے۔ محمد یونس کے بیان کو بھارت میں اس تاثر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ان ریاستوں کو بھارت سے الگ جغرافیائی اکائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو کہ بھارت کی اسٹریٹجک کمزوری پر ضرب ہے۔

ڈاکٹر محمد یونس نے اس سے قبل اپنے دورہ چین کے دوران بھی ان ریاستوں کو ‘لینڈ لاکڈ’ قرار دیا تھا اور بنگلادیش کو ان کا واحد سمندری راستہ بتایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش اس خطے کا نگہبان ہے جہاں چین کے لیے بڑے معاشی مواقع موجود ہیں۔ اروناچل پردیش جیسی ریاستوں پر چین کا دعویٰ اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

بنگلادیش کی 94 فیصد سرحد بھارت سے ملتی ہے اور بھارت برسوں سے اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے بنگلادیش کی چٹاگانگ بندرگاہ کے استعمال کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ تاہم بنگلادیش میں سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس مطالبے کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ محمد یونس کے اس الوداعی بیان نے مستقبل کے پاک بھارت اور بنگلہ تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے