گوجرانوالا ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف محمد رمضان نوشاہی کی رپورٹ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مراکش کشتی حادثے میں ملوث اور ریڈ بک میں شامل بدنام زمانہ انسانی اسمگلر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے گوجرانوالا زون کے مطابق گرفتار ملزم قاصد علی کا نام انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز کی فہرست میں شامل تھا اور وہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دے رہا تھا۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا ایک اہم اور سرگرم کارندہ ہے جس کے خلاف پہلے ہی متعدد سنگین مقدمات درج تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سادہ لوح شہریوں کو یورپ بالخصوص اسپین بھجوانے کا جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں روپے بٹورتا تھا اور پھر انہیں غیر قانونی اور خطرناک راستوں سے افریقہ منتقل کر دیتا تھا۔
تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے متاثرہ خاندانوں سے اسپین پہنچانے کے عوض فی کس 33 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ رقم بٹورنے کے بعد انسانی اسمگلروں کے اس منظم نیٹ ورک نے نوجوانوں کو موریطانیہ منتقل کیا جہاں انہیں بدترین تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں انہیں سمندر کے خطرناک راستے سے اسپین بھیجنے کا لالچ دے کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں کشتی کو حادثہ پیش آیا اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
گرفتار ملزم قاصد علی پر انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات کا سبب بننے جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ ملزم ایک ایسے عالمی گینگ کا حصہ ہے جو معصوم شہریوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں موت کے منہ میں دھکیلتا تھا۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔