موسیٰ خیل میں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے شہریوں کو دہکتے انگاروں پر چلانے کے واقعے پر پولیس نے مزید 5 افراد کو گرفتار کر لیا، یوں مجموعی طور پر گرفتار ملزموں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ویڈیوز میں آگ لگانے اور فیصلہ سنانے والے افراد بھی شامل ہیں۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی دکاندار نے 20 ہزار روپے کی چوری کے شبہ میں 8 افراد پر الزام لگایا اور جرگہ نے انہیں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے انگاروں پر چلنے کا حکم دیا۔ متاثرین کو بیان تبدیل کرنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور خوف کے باعث وہ جنگل میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس نے جرگہ کے 6 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 2 مفرور ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ ڈپٹی کمشنر رزاق خجک کا کہنا ہے کہ تمام ملزموں کو جلد گرفتار کر کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق واقعہ کوٹ خان محمد میں پیش آیا جہاں بااثر افراد نے پنچایت لگا کر قانون ہاتھ میں لیا اور مبینہ چوروں کو انگاروں پر چلنے پر مجبور کیا۔ واقعے سے علاقے میں شدید تشویش پھیل گئی، تاہم کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے