تہران (کیو این این ورلڈ) ایران میں ایک بڑی سیاسی اور مذہبی تبدیلی کے طور پر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 88 رکنی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں اور نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کریں۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر جشن منایا۔
تفصیلات کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ کبھی کسی انتخابی یا سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم وہ دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں انتہائی بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر تسلیم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے اور اپنی "مخلصانہ و تاحیات وفاداری” کا اعلان کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ نئے رہنما کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور یہ انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی انقلاب کا سفر کسی فرد کے مرہونِ منت نہیں۔
دوسری جانب ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ مجلسِ خبرگان نے بیرونی خطرات اور حملوں کے باوجود جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے اور موجودہ حساس حالات میں نیا لیڈر ہی ملک کی بہترین رہنمائی کر سکتا ہے۔ اسپیکر قالیباف نے نئے رہنما کی پیروی کو مذہبی اور قومی فریضہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر عالمی سطح پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کیا ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کے حوالے سے امریکہ سے منظوری لینی ہوگی، ورنہ وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ ادھر اسرائیل نے بھی اشتعال انگیز بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان عالمی دھمکیوں کے باوجود ایرانی قیادت نے دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی اور نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں اتحاد ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔