تل ابیب (کیو این این ورلڈ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں تل ابیب ایئرپورٹ پر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اس استقبال کو ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانا ہے۔

دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم کی اسرائیلی ہم منصب بن یامین نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے اہم ملاقاتیں طے ہیں، جن میں دفاعی تعاون اور اقتصادی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مودی جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب بھی کریں گے اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے بھارتی رہنما ہوں گے۔ بھارتی حکومت کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم پہلے ہی 3 ارب 62 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اب آزاد تجارتی معاہدے کے لیے باقاعدہ بات چیت شروع کی جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا اور فوربز انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس دورے کے دوران مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے بڑے دفاعی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ان معاہدوں میں سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور جدید آئس بریکر میزائل سسٹم کی خریداری شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اسرائیل سے جدید ہیرون ایم کے 2 ڈرونز کی اضافی مقدار خریدنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، جو مسلسل 45 گھنٹے پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ یہ ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجی "میک ان انڈیا” وژن کے تحت بھارت میں ہی تیار کی جائے تاکہ دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل ہو سکے۔ اگرچہ ان معاہدوں کے حوالے سے اب تک بھارتی حکومت نے کوئی باضابطہ تفصیلات شیئر نہیں کیں، تاہم دفاعی ماہرین اسے خطے میں نئی عسکری صف بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب، بھارتی وزیر اعظم کا یہ دورہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی بحران کے باعث شدید تنازعات کا شکار ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی اپوزیشن نے مودی کے اعزاز میں ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنایا ہے۔ تنازع کی بنیاد اسرائیلی اسپیکر امیر اوہانا کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت انہوں نے عدلیہ کے سربراہ جسٹس آئزک امیت کو اس خصوصی اجلاس میں مدعو نہیں کیا، جو کہ طے شدہ پروٹوکول کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔

اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے نیتن یاہو حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کے رہنما کو آدھی خالی پارلیمنٹ کے سامنے کھڑا کر کے بھارت کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عدلیہ کے سربراہ کا بائیکاٹ ختم کرے تاکہ اپوزیشن بھی اجلاس میں شریک ہو سکے۔ دوسری طرف اسپیکر امیر اوہانا کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی صورت میں وہ خالی نشستیں بھرنے کے لیے سابق قانون سازوں کو بلائیں گے تاکہ بھارتی وزیراعظم خالی ہال سے خطاب نہ کریں۔

یہ سیاسی تنازع دراصل نیتن یاہو حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری اختیارات کی جنگ کا تسلسل ہے۔ اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیون نے جسٹس آئزک امیت کے بطور چیف جسٹس اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں سرکاری پروٹوکول سے خارج کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف اسرائیل کے اندرونی حالات کو کشیدہ کر دیا ہے بلکہ بھارتی وزیر اعظم کے دورے کی سفارتی اہمیت پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے