نابلس (کیو این این ورلڈ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت سوز واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں انتہاپسند مسلح یہودی آبادکاروں نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بول دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نابلس کے علاقے میں شرپسندوں نے مسجد ابو بکر صدیق پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا۔ فلسطینی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیوز میں مسجد کے داخلی دروازے کو جھلسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعرے درج تھے جو عام طور پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی ترغیب کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے معان کے مطابق آگ مسجد کے دروازے پر لگائی گئی جس سے عمارت کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا، تاہم مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت بروقت آگ پر قابو پا کر بڑے نقصان سے بچا لیا۔ اس حملے کے ساتھ ہی ایک اور گروہ نے فلسطینی بستی پر حملہ کر کے متعدد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس نے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں درجنوں نقاب پوش افراد کو لاٹھیاں لہراتے اور املاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو کھلم کھلا دہشت گردی کی عکاسی کر رہا ہے۔
واقعے کے دوران دل دہلا دینے والے مناظر بھی دیکھے گئے، جب ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی شہری کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ "بچوں کو بچاؤ، گھر کے اندر بچے موجود ہیں”۔ فلسطینی ہلالِ احمر نے تصدیق کی ہے کہ دھوئیں سے متاثرہ چار افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ فلسطینیوں کے مطابق یہ حملہ ان کے حوصلے پست کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جس میں معصوم بچوں اور خواتین تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستانہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ واقعات مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہیں، اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران مغربی کنارے میں 45 مساجد پر حملے کیے گئے ہیں۔ یہ تشدد ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب فلسطینی ماہِ مقدس رمضان میں روزے اور عبادات میں مصروف ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں فائرنگ اور آتش زنی کے سینکڑوں واقعات شامل ہیں۔ عالمی سطح پر ان واقعات کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، خصوصاً مودی کے دورے کے دوران ان مظالم میں شدت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی پولیس نے ہمیشہ کی طرح ملزمان کی تلاش کا روایتی بیان جاری کیا ہے، تاہم اب تک کسی ٹھوس کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔