نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) امریکی جریدے "ڈی سی جرنل” نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ اسرائیل نواز پالیسی کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے بھارت کی روایتی متوازن خارجہ پالیسی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق مودی کا دورہ اسرائیل محض معمول کی سفارت کاری نہیں بلکہ ایران مخالف ایک واضح سیاسی صف بندی ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نریندر مودی کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کھلی قربت نے خلیجی ممالک میں بھارتی مفادات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ خلیجی ممالک اب بھارت کو ایک آزاد ریاست کے بجائے اسرائیل نواز سیکیورٹی کیمپ کا حصہ سمجھنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے عرب دنیا اور ایران کے ساتھ بھارت کا سفارتی توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔
امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ مودی کی اس غیر متوازی پالیسی کا سب سے بڑا خمیازہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکینِ وطن کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ سماجی اور سیاسی دباؤ کی صورت میں ان کارکنوں کو ویزہ، روزگار اور رہائشی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے بھارت کو موصول ہونے والی اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر (Remittances) میں بڑی کمی کا خدشہ ہے۔
اسٹریٹجک محاذ پر مودی کی پالیسیوں نے ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ امریکی دباؤ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کی وجہ سے اہم ترین "چابہار بندرگاہ منصوبہ” خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی کی اس پالیسی نے بھارت کے دیرینہ توانائی اور تجارتی مفادات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔