کابل اور ننگرہار میں بارود کے ذخائر راکھ: پاک فضائیہ کا کامیاب آپریشن

راولپنڈی (کیو این این ورلڈ)آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں افغان طالبان کے زیرِ استعمال فوجی تنصیبات، ایمونیشن ذخیرہ کرنے کی جگہوں اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 مارچ کی شب کی جانے والی اس کارروائی میں پاک افواج نے کابل میں دو اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ وہاں موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج (بارود کا ذخیرہ) مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فضائی حملے کے فوری بعد وہاں ہونے والے زوردار دھماکوں اور بلند ہوتے شعلوں (سیکنڈری ڈیٹونیشن) سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان مقامات پر بارود اور اسلحہ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا، جسے مؤثر طریقے سے نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانے کے دعوے پر ردِعمل دیتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک افواج نے صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے دہشت گردانہ کارروائیاں آپریٹ کی جا رہی تھیں۔

ننگرہار میں بھی پاک افواج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے چار مختلف مقامات پر ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کے دوران ملٹری تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر، ایمونیشن اور ٹیکنیکل ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام متعین کردہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے