پشاور: (کیو این این ورلڈ) خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت اب سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کی جائیں گی۔

اس سلسلے میں کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اس اہم بیٹھک میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک ہی سمت میں آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں یہ طے پایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں جیسے جیسے صورتحال بہتر ہوگی، تمام انتظامی خدمات مرحلہ وار سول انتظامیہ کو منتقل کر دی جائیں گی۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امن و امان سے متعلق کئی دور رس فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مختلف امور پر مکمل اتفاق پایا گیا ہے اور باہمی اشتراک کے نئے فریم ورک پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیر قانون نے مزید وضاحت کی کہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی حتمی توثیق ہو سکے۔ اس پورے عمل کے دوران تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اسٹیک ہولڈرز اور مقامی قبائلی مشران کو بھی مکمل اعتماد میں لیا جائے گا۔

اسی حوالے سے مشیر اطلاعات شفیع جان نے بھی تصدیق کی کہ اجلاس میں معیشت اور سکیورٹی کے حوالے سے ٹھوس پالیسیاں بنائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی ہے تاکہ سروسز کی منتقلی کا عمل جلد از جلد مکمل ہو سکے۔

دوسری جانب مشیر خزانہ مزمل اسلم نے صوبے کے مالی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے این ایف سی کا حصہ ملنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر خیبر پختونخوا کو اس کا واجب الادا حق مل جائے تو کئی بڑے مالی بحران حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ضم شدہ اضلاع کے لیے موجودہ فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبہ مل کر ان علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے تاکہ وہاں ترقیاتی کاموں اور امن کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے