ڈیرہ غازیخان (کیو این این ورلڈ) ڈیرہ غازیخان میں رمضان المبارک کا آدھا مہینہ گزرنے کے باوجود رمضان آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث شہر بھر میں دن کے اوقات میں ہوٹل اور کھانے پینے کی ریڑھیاں کھلے عام چلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ تاحال کسی نمایاں کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جس سے انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق پل ڈاٹ، گدائی، کچہری چوک، ٹریفک چوک اور شہزاد کالونی سمیت مختلف علاقوں میں ہوٹل معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں جبکہ بعض مقامات پر لوگ سرعام کھاتے پیتے بھی نظر آتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں رمضان المبارک کے دوران دن کے اوقات میں ہوٹل بند رکھنے سے متعلق واضح ہدایات جاری کی جاتی تھیں اور خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی دیکھنے میں آتی تھیں، تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ انتظامی افسران کی جانب سے رمضان آرڈیننس کے تحت کسی مؤثر کریک ڈاؤن یا جرمانے کی اطلاع نہیں ملی، جس کے باعث ہوٹل مالکان اور ریڑھی بان بلا خوف و خطر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مذہبی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مہینے کے تقدس کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
شہریوں،سماجی ومذہبی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے کر رمضان آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور دن کے اوقات میں کھلے ہوٹلوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔