آئیے زندگی کو خوشگوار جینے کا فن سیکھتے ہیں
تحریر: ظفر اقبال ظفر

مجھ میں دولت کمانے کی ہوس نہیں لیکن زندگی سے لطف اندوز ہونے کا آرزو مند ضرور ہوں۔ اگر آپ جینے کے فن سے واقف نہیں تو آپ زندگی نہیں گزار رہے بلکہ زندگی آپ کو گزار رہی ہے۔ حالات کے سامنے بے بس رہنے کی بجائے اسے اپنی گرفت میں رکھنے کا فن اپنائیے۔ سبق نہیں مثال بننے میں تاریخ رقم کیجئے۔ صحت مند اعصاب کا دور ہی آپ کی مالی ترقی کو حقیقت بناتا ہے کیونکہ خدا آپ کے گناہ معاف کر سکتا ہے مگر آپ کا اعصابی نظام غلط استعمال پر آپ کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ لہٰذا اعصاب کو مضرِ صحت استعمال سے بچا کر سکون بخش اقدامات پر لگائیے تاکہ جب آپ اعصابی کمزوری میں مبتلا ہو جائیں تو آپ کی درست حکمت عملی آپ کو کما کے دیتی رہے۔

یہ دنیا کامیاب انسان، صاحبِ مال و دولت کو ہی مانتی ہے اور کاروبار و سرمایہ کاری ہی واحد ذریعہ ہے جو درست سمت پر ہو تو نسلوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے محنت کشوں کو بھی پالتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی عوام کو معاشی ترقی کے وسائل دیتے ہیں اور تربیت کے لیے ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جو لوگوں کے اندر جھجک اور عدم اعتماد کی جگہ جرات اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔

لوگوں کو ذہنی غلام بنانے کی بجائے ان کے اندر قدرت کی طرف سے رکھی گئی لیڈرشپ خصوصیات کو ابھارا اور نکھارا جائے، انہیں بولنے کے فن سے متعارف کروایا جائے۔ ذہن اور زبان کا درست استعمال کرنے والوں کو بتایا جائے کہ قیادت انہی کے قدم چومتی ہے جو بے دھڑک اور متاثر کن انداز میں اپنے مفید خیالات کا اظہار کرنا جانتے ہیں۔

گزر جانے والے کل اور آنے والے کل کا اکٹھا بوجھ اٹھایا جائے تو طاقتور سے طاقتور انسان کا بھی آج خراب ہو جائے گا۔ اپنے ماضی کی طرح اپنے مستقبل پر بھی تمہاری گرفت نہیں، تمہیں جو آج ملا ہے اس کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ زندگی کا مقصد دور دھندلکوں میں دیکھنا نہیں بلکہ جو سامنے موجود ہے اسے سرانجام دینا ہے۔ ماضی کی طرح مستقبل کو بھی مضبوطی سے بند کر دو۔ جو شخص مستقبل کے متعلق بے چین ہے وہ ذہنی قوت کو برباد کر رہا ہے، اعصابی پریشانیاں اس کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ایک طرف لامحدود ماضی ہے جو ازل سے جاری ہے اور دوسری طرف مستقبل ہے جو ابد تک جاری رہے گا۔ پھر کیوں نہ ہم اپنے آج میں زندہ رہنے پر قناعت کریں۔

خودکشی کا ارادہ کرنے والے ذہنوں کو زندگی بخش فضاؤں میں گہری سانسیں لینے کا بندوبست کریں۔ تنہائی اور محرومیوں کے قیدی کو مخلص ساتھ اور وسائل سے ہمکنار کریں۔ زیادتی و نقصان سے متاثرہ شخص کو اس بات سے لاپرواہ کریں کہ زندگی کسی کو کچھ نہیں دیتی، تمہاری اپنی کوشش و محنت تمہاری زندگی میں جینے کے رنگ بھرتی ہے۔ لذتِ حیات کو ملتوی کرنے والی انسانی فطرت کو بدلا جائے۔ دماغ پر جو بند گلی جیسی سوچوں کا قبضہ ہے اسے اپنے اکلوتے کندھے پر اٹھائیے اور چار قبروں جتنے گہرے کھڈے میں دفنا دیجئے۔ انہی سوچوں کے وائرس کی وجہ سے پورے جسم پر مایوسی کے چھوٹے چھوٹے پھوڑے پھنسیاں نکلتے ہیں جو امید کے بستر پر لیٹتے ہی بے بسی کے درد میں مبتلا کر دیتے تھے۔

کبھی کبھی مصیبت میں مبتلا شخص کی بے پرواہی بھی شفا بخش ہو جاتی ہے۔ انسانی حوصلہ افزائی میں بڑی طاقت ہے مگر کبھی کبھی بے رحم حالات بھی انسان کو زندگی کے راستے پہ ڈال دیتے ہیں۔ ایک شخص کو مالی نقصان نے مفلسی کے بسترِ مرگ پہ ڈال دیا، جسم سے صحت کی روانگی روز بروز اپنی رفتار تیز کیے جا رہی تھی۔ ڈاکٹر نے معذرت کر کے زندگی چند دنوں کی مہمان ہونے کا اشارہ دے دیا۔ اب یہ موت کا منتظر بندہ سوچتا ہے کہ کشمکش یا پریشانی میں مبتلا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس نے فکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور سو گیا۔ اس کی روح فرسا تھکاوٹ اترنے لگی، بھوک لوٹ آئی اور طاقت بڑھنے لگی۔ چند ہفتوں بعد بیساکھیوں کی مدد سے چلنے لگا اور کچھ ماہ میں جسمانی طاقت نے محنت کے ہتھیاروں سے وسائل کے پہاڑ توڑتے ہوئے اپنی کاروباری رونقیں بحال کر لیں۔ اپنے شعور کی رہنمائی میں اس بندے نے ترقی کی یادگار منازل طے کر کے تاریخ رقم کی۔

بڑے سے بڑے نقصانات کی قیمت یہ نہیں کہ وہ آپ کی زندگی نگل جائیں۔ کامیابی کی طرح نقصان کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار رہیں تاکہ آپ بدترین کو خاموشی کے ساتھ بہترین بنانے میں اپنا وقت، قوت و توانائی لگا کر حالات کا رخ پلٹ سکیں۔ اگر آپ فکر و پریشانیوں میں مبتلا رہے تو ناکامی کو کبھی واپس نہیں پلٹا سکتے۔ پریشان حال انسان پر اوپر سے معجزے نہیں ہوتے بلکہ اندر سے ہی کرشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پریشانیوں میں ہم اپنے دماغ کو یکسو نہیں رکھ پاتے، ہمارا دماغ یہاں وہاں ادھر ادھر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے، ہم کسی بہتر فیصلے پر پہنچنے کی قوت سے محروم ہو جاتے ہیں، مگر پہلے سے ہی کی گئی ذہنی تیاری عقل برباد کرنے والے حادثات کے اثرات کو ہی کم نہیں رکھتی بلکہ آپ کی توجہ معاملے پر مرکوز کر کے اسے حل کی جانب بھی لے جاتی ہے۔

جو کچھ ہو چکا اس پر قناعت کرو کیونکہ بدنصیبوں کا خمیازہ برداشت کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ برے نتائج پر مبنی حالات کو قبول کر کے اس سے باہر نکلنے کی کوشش و حکمت عملی ہی چھوڑ دی جائے۔ اگر کامیابی نے آپ کا انکار کیا ہے تو آپ کے پاس بھی اتنی قوتِ خود ارادی ہونی چاہیے کہ آپ ناکامی کا انکار کر سکو۔ درست دماغی سکون بدترین کو قبول کرنے سے ہوتا ہے، نفسیاتی اعتبار سے اس کا مطلب تکلیف دہ قوت کا اخراج ہے۔ کچھ بھی برا ہو جانا حالات کا نام ہے، مقدر کا فیصلہ نہیں، اور جس انسان کے پاس مقدر بدلنے کی قابلیت ہو وہ برے حالات کو بدلنے میں اپنے عقل و عمل کا کامیاب تجربہ کرتا ہے۔ جو لوگ برے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ ہوں اور اپنے آپ پر اعتماد نہ رکھتے ہوں وہ نقصانات کے نتائج دیکھ کر اپنی قیمتی زندگیاں پریشانیوں اور الجھنوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ آپ کو نہ صرف تباہی کی دلدل سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ اپنی قسمت کی تعمیرِ نو کرنے کا فن بھی آنا چاہیے۔

ہمارے ہسپتالوں میں زیادہ تر بستر اعصابی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جب جان کی بازی ہار جانے والوں کا پوسٹ مارٹم میں طاقتور خوردبین سے اعصابی معائنہ کیا جاتا ہے تو اکثریت کے اعصاب صحت مند اور تندرست جس قدر کسی پہلوان کے ہوتے ہیں۔ ان کے اعصابی امراض کی وجہ ان کے جسمانی اعضاء کا ناکارہ ہو جانا نہیں ہوتا بلکہ مایوسی، ناکامی، شکست، ہار، فکر، رنج، غم، خوف اور ڈر کے جذبات ہوتے ہیں۔ افلاطون کہتا ہے طبیبوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ ذہن کی طرف توجہ دیے بغیر جسم کا علاج کرتے ہیں، لیکن جسم اور دماغ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ سلوک کیا جا سکتا ہے۔

روحانی صحت کے لیے اللہ پر مکمل یقین رکھیں، عبادات و اذکار کو معمول بنائیں اور جسمانی صحت کے لیے گہری پرسکون نیند لیں۔ اچھی موسیقی سے لطف اندوز ہوں، زندگی کے مزاحیہ پہلو پر نظر رکھیں، قہقہہ، مسکراہٹ اور ہنسی خوشگوار زندگی کے رنگ ہیں اور اچھے لوگوں کا ساتھ حالات کے زخموں پر شفا بخش مرہم کا کام کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے