لاہور (کیو این این ورلڈ) بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس افسران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے انصاف فراہم کرنے کے بجائے حراست میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین اس پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچی کو قتل کرنے کا اعتراف کرے، جبکہ وہ خود اس حادثے کا عینی شاہد تھا اور دہائیاں دیتا رہا کہ اس کے پیارے اس کی آنکھوں کے سامنے گہرے نالے میں گرے ہیں۔
غلام مرتضیٰ نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ حادثے کی اطلاع دینے تھانے پہنچا تو پولیس نے اسے اور اس کے کزن تنویر کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس افسران اسے زبردستی یہ بیان دینے پر مجبور کرتے رہے کہ اس کی بیوی کے ساتھ لڑائی تھی اور اس نے خود اسے نالے میں دھکا دیا، حالانکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ خوشی خوشی سیر کے لیے نکلا تھا۔ پولیس نے اس کا موبائل فون بھی چھین لیا اور کئی گھنٹے تک اسے ذہنی و جسمانی اذیت دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں 24 سالہ خاتون اور اس کی 10 ماہ کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے مجرمانہ غفلت چھپانے کے لیے واقعے کو سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا، تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد جب خاتون اور بچی کی لاشیں جائے وقوعہ سے 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں تو انتظامیہ کے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ متاثرہ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کرنے والے پولیس افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔