کندھ کوٹ: سول ہسپتال کرپشن کا گڑھ بن گیا، قیمتی سرکاری ادویات غائب

کندھ کوٹ(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار وقاراحمد اعوان) کندھ کوٹ کے سول ہسپتال میں بدانتظامی اور کرپشن نے غریب مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں، جہاں سرکاری ادویات کی مبینہ چوری اور بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔

علاقہ مکینوں اور متاثرہ مریضوں کے مطابق ہسپتال اب علاج گاہ کے بجائے ظلم کا مرکز بن چکا ہے، جہاں دور دراز سے آنے والے لاچار مریض ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سرکاری ادویات کی کھلی فروخت میں ملوث ہیں اور قیمتی ادویات مبینہ طور پر نجی میڈیکل اسٹورز پر سپلائی کی جا رہی ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس مکروہ دھندے میں ڈی ایچ او اور آفس سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق سیفٹریاکسون، میروپینم، وینکومائسن، انسولین، اومیپرازول اور پیراسیٹامول انفیوژن سمیت درجنوں جان بچانے والی ادویات ہسپتال سے غائب کر دی گئی ہیں، جبکہ بنیادی ادویات اور انجکشنز بھی ہسپتال میں دستیاب نہیں ہیں۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور ڈپٹی کمشنر کشمور سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کرپشن مافیا کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ او، آفس سپرنٹنڈنٹ اور دونوں اسٹور انچارجز کو فوری گرفتار کر کے نوکریوں سے فارغ کیا جائے تاکہ غریب مریضوں کا استحصال بند ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے