کشمور (کیو این این ورلڈ) سندھ کے ضلع کشمور کے علاقے کندھ کوٹ کے قریب واقع گاؤں عطا محمد کھوسہ میں ایک پراسرار اور نامعلوم بیماری نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی ہفتے کے دوران چار معصوم بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس المناک صورتحال نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، خصوصاً ایک ہی خاندان کے دو بھائیوں کے یکے بعد دیگرے انتقال نے ورثا پر قیامت ڈھا دی ہے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں ارشاد علی اور عرفان علی سولنگی شامل ہیں، جن کے بارے میں ان کے والدین کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی محض 24 گھنٹوں کے اندر اس پراسرار بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن گئے۔
علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق اس بیماری کی علامات انتہائی تشویشناک ہیں؛ ابتدا میں بچوں کا گلا خراب ہوتا ہے اور پھر چند ہی گھنٹوں میں ان کی حالت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے دیگر بچوں میں صدام حسین اور سارہ بی بی سولنگی بھی شامل ہیں۔ مقامی افراد نے شکایت کی ہے کہ علاقے میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جبکہ بنیادی مراکزِ صحت میں ہنگامی سہولیات کے فقدان کے باعث بچوں کو بروقت طبی امداد نہیں مل سکی۔
دوسری جانب، میڈیا پر خبریں آنے کے بعد محکمہ صحت سندھ کی ٹیمیں متاثرہ گاؤں پہنچ گئی ہیں۔ طبی ماہرین کی ٹیم نے متاثرہ بچوں کے خون کے نمونے حاصل کر لیے ہیں اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس مہلک مرض کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کا ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ یہ علامات "خناق” (Diphtheria) یا کسی شدید وائرل انفیکشن کی ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی تصدیق لیبارٹری رپورٹس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ محکمہ صحت کے حکام نے گاؤں میں عارضی میڈیکل کیمپ قائم کر دیا ہے اور دیگر بچوں کی اسکریننگ شروع کر دی ہے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔