کراچی (نامہ نگار)وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی کا پانی چوری کر کے شہریوں کو فروخت کیا جا رہا ہے، جس میں بڑے لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر شہر میں پانی کی قلت ہے تو واٹر ٹینکر مافیا کیا افغانستان سے پانی لا رہا ہے، اور دودھ دینے والی گائے کو چارہ تو کھلاؤ۔

کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کے متعدد مسائل کو حل کر دیا گیا ہے، جبکہ بطور میئر پانچ سال میں 30 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی کام مکمل کیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کراچی دنیا کے 12 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل تھا، مگر آج یہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی دو آپریشنل بندرگاہیں ایشیا کا دروازہ ہیں، مگر شہر کی 90 فیصد آبادی پانی خریدنے پر مجبور ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی چوری ہو کر فروخت کیا جا رہا ہے اور شہر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، لیکن فیصلہ کن کارروائی نہیں کی جا رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے