کراچی (ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں تاجروں، صنعتکاروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو بھتے کی پرچیاں ملنے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق مراد علی شاہ سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے وفد نے ملاقات کی، جس کی قیادت چیئرمین آباد حسن بخشی کر رہے تھے۔ ملاقات میں کراچی میں بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے سنگین مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفد سے شکوہ کیا کہ بھتہ خوری اور قبضہ مافیا سے متعلق معاملات میڈیا میں لانے کے بجائے براہ راست حکومت کے سامنے رکھے جانے چاہیے تھے۔ اس موقع پر آباد کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو بھتہ خوری کی پرچیاں اور وہ ٹیلی فون نمبرز بھی فراہم کیے جن سے بھتے کے مطالبات موصول ہو رہے ہیں۔

وفد نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھتہ خوری کے تقریباً 10 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر پولیس نے کارروائی کی۔ وزیر داخلہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے اب تک 50 بھتہ خوروں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جبکہ پولیس مقابلوں میں 6 مجرم مارے جا چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ آباد کی جانب سے دی گئی شکایات پر فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی بھتہ خوروں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے تھے اور اب وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے بیرونِ ملک بیٹھے بھتہ خوروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب چیئرمین آباد حسن بخشی نے انکشاف کیا ہے کہ بھتہ خور غیر ملکی، بالخصوص ایرانی نمبرز سے دھمکی آمیز کالز کر رہے ہیں اور بعض معاملات میں بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے افراد محض فرنٹ مین تھے جبکہ اصل بھتہ خور بیرونِ ملک موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے