کراچی(ویب ڈیسک)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے کلفٹن جیسے اہم علاقے میں واقع سرکاری رہائشی منصوبے "اوئسٹر ٹاورز” کو باقاعدہ طور پر ’’خطرناک‘‘ قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بعد وہاں مقیم گریڈ 18 سے 20 کے درجنوں سرکاری افسران اور ان کے خاندانوں پر بے گھری کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔ یہ سرکاری عمارت گزشتہ کئی برسوں سے شدید خستہ حالی، سیوریج کے ناکارہ نظام اور ساختی کمزوریوں کا شکار تھی، جس کے بارے میں رہائشیوں نے بارہا متعلقہ محکموں کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ تاہم، ماضی میں حکومت اور ذمہ دار اداروں کی جانب سے ان انتباہات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، جس کا نتیجہ آج عمارت کو غیر محفوظ قرار دیے جانے کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اب اخبارات میں اشتہار کے ذریعے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
حکومتی بے حسی اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ اب ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، کیونکہ متاثرہ خاندانوں کو کسی بھی قسم کی متبادل رہائش فراہم کیے بغیر فوری طور پر مکانات خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ کلفٹن جیسے مہنگے علاقے میں نجی رہائش گاہوں کے آسمان سے باتیں کرتے کرائے اور شہر میں سرکاری مکانات کی شدید قلت نے ان خاندانوں، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید ذہنی تناؤ اور عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت کی سزا انہیں اور ان کے بچوں کو دی جا رہی ہے، جبکہ عمارت کی اس حالتِ زار کے ذمہ دار وہ افسران ہیں جنہوں نے فنڈز ہونے کے باوجود بحالی کے کاموں میں دلچسپی نہیں لی۔
متاثرہ رہائشیوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ انخلا کے حکم کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ماہرین کی نگرانی میں عمارت کی بحالی و مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عمارت کی مرمت ممکن نہیں تو حکومت کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ان افسران کو کسی دوسرے محفوظ مقام پر متبادل سرکاری رہائش فراہم کرے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی انتظام کے خاندانوں کو سڑک پر لانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، اس لیے اعلیٰ حکام کو اس سنگین معاملے میں فوری مداخلت کرنی چاہیے۔