کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹربشیربلوچ کی رپورٹ) لانڈھی بابر مارکیٹ کیٹل کالونی میں مبینہ طور پر زہریلی فیڈ کھانے سے کروڑوں روپے مالیت کے 38 مویشی ہلاک ہو گئے، جس پر ڈیری فارمرز نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داری محکمہ لائیو اسٹاک پر عائد کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان، شاکر عمر گجر کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ڈیری فارمر مبشر کے فارم پر زہریلی فیڈ (بھوسی ٹکڑے) کھانے کے باعث 18 قیمتی بھینسیں اور گائے موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں، جبکہ 20 جانوروں کی حالت بگڑنے پر انہیں ہنگامی طور پر ذبح کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ 22 مویشی اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں جنہیں بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

صدر ایسوسی ایشن شاکر عمر گجر نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نقصان کی پوری ذمہ داری محکمہ لائیو اسٹاک سندھ اور کے ایم سی ویٹرنری ڈپارٹمنٹ پر عائد ہوتی ہے، جن کا کوئی نمائندہ تاحال متاثرہ فارم پر نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ سندھ فوری طور پر پنجاب کی طرز پر فیڈ ملز کی لائسنسنگ کا نظام متعارف کرائے اور چارے میں ٹوکسن (Toxin) کی چیکنگ کو لازمی قرار دیا جائے۔

متاثرہ فارمرز کا کہنا ہے کہ ان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، لہٰذا حکومت فوری طور پر اس کا ازالہ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مویشیوں کے چارے کے معیار کی مانیٹرنگ کا مؤثر نظام نہ بنایا گیا تو اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی فارمرز کی کمر توڑ دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے