برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت عالمی طاقتوں کا پاکستان کو خراجِ تحسین؛ ایران امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم، لبنان میں بھی امن کا مطالبہ

لندن(کیو این این ورلڈ)مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اور جنگی بادلوں کے درمیان برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا اور جاپان کے سربراہانِ مملکت نے ایک انتہائی اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس اعلامیے میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اس عمل میں پاکستان کے کلیدی اور مصالحتی کردار کی خصوصی تعریف کی گئی ہے۔

یہ مشترکہ اعلامیہ برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کے سرکاری دفتر ’10 ڈاؤننگ اسٹریٹ’ سے جاری کیا گیا ہے۔ اس دستاویز پر عالمی سطح کے بااثر رہنماؤں، بشمول فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی کے دستخط موجود ہیں، جو اس کی سفارتی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

اعلامیے میں یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت، یعنی یورپی کمیشن کی صدر اورسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کی شمولیت نے اس بیان کو مزید تقویت بخشی ہے۔ عالمی برادری نے اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے جس کا مقصد خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی عالمی امن کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ پاکستان اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی انتھک سفارتی کوششوں کے بغیر اس سطح کا سمجھوتہ ممکن نہ تھا، جس کے لیے وہ تحسین کے مستحق ہیں۔

اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی کا راستہ ہے، اور موجودہ بحران کے خاتمے کا واحد حل صرف اور صرف بامعنی سفارتکاری میں پنہاں ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مذاکرات کے اس سلسلے کو فوری طور پر مزید آگے بڑھایا جائے تاکہ آئندہ چند دنوں میں جنگ کا کوئی مستقل اور پائیدار سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔

عالمی طاقتوں نے ایران کے عام شہریوں کے تحفظ اور پورے خطے کے استحکام کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایک سنگین عالمی توانائی بحران جنم لے سکتا ہے، جس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔

ایک اہم مطالبے میں تمام عالمی فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کریں۔ بالخصوص لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لبنان میں بھی فوری طور پر جنگ بندی نافذ کی جائے تاکہ وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران کو روکا جا سکے۔

اعلامیے کے اختتام پر سمندری حدود کے تحفظ اور عالمی تجارت کے تسلسل پر بھی بات کی گئی ہے۔ متعلقہ ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی سطح پر تیل کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ عالمی منڈیوں میں استحکام برقرار رہے۔

QNN World کی رپورٹ کے مطابق، یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور امن کی کوششوں کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے